HomeHome  GalleryGallery  FAQFAQ  SearchSearch  MemberlistMemberlist  UsergroupsUsergroups  RegisterRegister  Log in  

Share | 
 

 مسلم دنیا میں تعلیم کی صورتحال اور ہماری ترجیحات

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
راجہ اکرام



Posts : 3
Join date : 2010-09-14

PostSubject: مسلم دنیا میں تعلیم کی صورتحال اور ہماری ترجیحات   Tue Sep 14, 2010 2:58 pm

تحریر: راجہ اکرام الحق

قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کا کردار سب سے اہم رہا ہے۔ جس قوم نے اس میدان میں اپنے جھنڈے گاڑے دنیا اس کے سامنے سرنگوں ہوتی چلی گئی ۔ سیدنا آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر دی جانے والی فوقیت سے لے کر آج مغرب کی دیگر اقوام پر برتری کے پیچھے اگر کوئی عامل کار فرما ہے تو وہ علمی تفوق ہے۔اسلام دنیا میں غلبے کے لئے آیا ہے اس لئے پہلا حکم ہی اس چیز کا دیا گیا جو ترقی و کامیابی اور غلبے کی شرط اول ہے۔
اور یہ صرف خیال ہی نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس میدان میں اپنے قدم جمائے رکھے دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔ اور جیسے جیسے ’اقراء‘ کا درس ان کے ذہنوں سے محو ہوتا گیا غلامی کا گھیرا ان کے گرد تنگ ہوتا گیا اور آخر کار پوری قوم غلام بنا لی گئی۔ اور آج تک بد ترین ذہنی اور جسمانی غلامی سے گزر رہی ہے۔

ویسے تو روز اول ہی سے مسلمانوں نے تعلیم پر توجہ دینا شروع کر دی تھی لیکن اسلامی تاریخ میں تعلیم کے حوالے سے پہلا سنہری دور عباسیوں کا گزرا ہے، اس میں خلفاءپوری دنیا سے مختلف علوم کے ماہرین کو دربار میں بہت اہم مقام دیا کرتے تھے، بڑی بڑی مراعات دی جاتیں جس کے نتیجے میں دنیا بھر سے اہل علم کھنچے چلے آتے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں بہت جلد مختلف علوم و فنون کو بڑی ترقی ملی۔ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے بارے میں مشہور مورخ سرجان باگوٹ کلب لکھتے ہیں کہ ان کے دور میں نہ صرف دارالخلافہ میں بلکہ سلطنت کے دیگر بے شمار حصوں میں فری ہسپتال قائم ہو چکے تھے ۔فسلفہ یونان اور طب یونانی کی عربی زبان میں منتقلی کا کام بھی اسی زمانے میں ہوا۔ بازنطین کے ظلم و ستم سے تنگ آکر جو نسطوری عیسائی عراق میں آ کر آباد ہوئے تھے انہوں نے دیگر اقوام کے علوم و فنون کی عربی میں منتقلی میں اہم کردار ادا کیا۔گنیز بک و ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا کی سب سے پرانی یونیورسٹی جامعہ القرویہ ۔ مراکش ہے ۔
ترقی کا یہ سفر جاری رہا یہاں تک کہ سمرقند و بخارااور بغداد و غرناطہ مرجع خلائق بن گئے۔ اور ایسا بھی وقت آیا کہ یورپ اپنے تاریک ترین دور سے گزر رہا تھا اور مسلم دنیا میں علم کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔


وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ترجیحات میں تبدیلی آتی گئی، علم و تعلیم کی جگہ رقص و سرود آ گئے اور بادشاہوں کے درباروں میں علماءاو ر اہل علم کی جگہ گویوں اور رقاصاو ¿ں نے لے لی۔ شمشیر و سناں کے دلدادہ طاؤس و رباب کے خوگر ہو گئے اور یہ حقیقت ہے کہ طبلے کی شاپ ہر تھرکتے شانوں کے ماحول میں پلنے والی قوم بہادری، ہنر مندی اور خود داری کی اوصاف سے عاری ہوتی ہے۔ اور کوئی بھی قوم انہیں غلامی و محکومی کی زنجیر بہنا کر دست نگر کر سکتی ہے۔ ایسا ہی مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔

یورپ جو تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا مسلمانوں سے فیض پا کر ایسا چمکا کہ پوری دنیا کی نگاہوں کو اس کی چکا چوند نے خیرہ کر دیا اور مسلمان جو دوسروں کی رہبری کا فریضہ سر انجام دیتے تھے خود گم گشتہ راہ ہو گئے ۔

خلافت عباسیہ کے بعد خلافت عثمانیہ بھی بکھر گئی، انگریزوں اور یورپیوں نے کم و بیش پوری مسلم دنیا کو اپنی کالونی بنا لیا ۔ بیسویں صدی میں آزادی کی لہر اٹھی اور بے شمار آزاد مسلم ریاستیں دنیا کے نقشے پر ابھریں ۔ ان مسلمانوں کو اپنے ماضی پر رشک تو ضرور تھا لیکن ان کے نقش قدم پر چلنے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ کچھ تو وسائل کی کمی کی بنا پر علمی و اقتصادی ترقی کے میدان میں کوئی نمایاں کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں اور وہ ریاستیں جنہیں قدرت نے بے شمار وسائل سے مالامال کیا ہے علم و تعلیم ان کی ترجیحات میں بہت نیچے ہے۔

آج دنیا سکڑ کر ایک گاو ¿ں کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ مختلف بین الاقوامی قوانین کے باعث اب جسمانی غلامی کی پرانی شکلیں تقریبا ختم ہو چکی ہیں۔ اب ذہنی غلامی کا دور ہے جو جسمانی غلامی سے کہیں بد تر اور خطرناک ہے۔ کیوں کہ اس میں بظاہر آزاد نظر آنے والے لوگ انتہائی مجبور ہوتے ہیں ، ان کی سوچ اور ان کا عمل مختلف طرح کی پابندیوں میں جکڑا ہوتا ہے۔ جسمانی طور پر غلام کم از کم اپنی آزادی کے لئے سوچتا ہے، کوشش کرتا ہے اور آزاد زندگی کے خواب دیکھتا ہے ۔ لیکن ذہنی غلام اس سوچ تک سے عاری ہوتا ہے۔ اور بد قسمتی سے پوری مسلم دنیا اس وقت اس بدترین غلامی کا شکار ہے۔ جسمانی غلامی کی طرح ذہنی غلامی کی وجہ بھی علم و تحقیق کے میدان میں پس ماندگی اور دیوالیہ پن ہے۔ بلکہ آج اس میدان میں ترقی جتنی ناگزیر ہے شاید اس سے قبل اتنی ناگزیر نہیں تھی۔


لیکن مسلمان ممالک تمام تر وسائل کے باوجود ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں جن کا فائدہ سوائے گنیز بک میں اپنا نام درج کروانے کے اور کچھ نہیں۔ دنیا کی سب سے خوبصوت مسجد، دنیا کے سب سے بڑے یا سب سے چھوٹے سائز کا قرآن مجید ، دنیا کی سب سے اونچی عمارت اور اس طرح کی ترجیحات میں بے دریغ پیسے کا استعمال ہو رہا ہے جب کہ علم و تحقیق جو کہ ہر قسم کی ترقی کا ضامن ہے اسے در خور اعتناءہی نہیں سمجھا جاتا۔

اسلامی دنیا کے امیر ترین ممالک وہ عرب ہیں جن کے پاس تیل اور دیگر معدنی ذخائر وافر مقدار میں ہیں۔ اس قدرتی دولت نے انہیں نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا بھر میں انتہائی اہم مقام دیا ہے۔ لیکن ان کی ساری دولت بڑی بڑی مارکیٹیں بنانے، اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کرنے ، اونٹ بھگانے اور عیش و عشرت کی نذر ہو جاتی ہے۔ حال ہی میں دبئی میں برج الخلیفہ کے نام سے دنیا کی بلند ترین عمارت بنائی گئی، اس پر کتنا پیسہ اور کتنا وقت لگا اس کی تفصیلات مختلف جرائد میں آچکی ہیں۔ اس کی تفصیلات پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ اس عمارت سے دنیا کو یا امت مسلمہ کو کیا فائدہ ہو گا؟

اس کے برعکس اگر ہم عرب دنیا میں تعلیم کی صوتحال دیکھیں تو وہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ ورلڈ بینک نے 2008میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں تعلیم کی صورت حال کا جائزہ لیا۔ اس جائزے سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ تعلیم کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔

اسی طرح جنوری میں تیونس میں واقع ایک تنظیم” عرب لیگ ایجوکیشنل اینڈ کلچرل آرگنائزیشن “نے ایک سروے کیا جس کے مطابق تین سو ملین نوجوانوں میں سے 30 فیصد ناخواندہ ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس خطے میں گزشتہ 40سالوں میں GDPکا صرف پانچ فیصد تعلیم پر لگایا گیا ہے۔ پوری مسلم دنیا میں کوئی ایسی یونیورستی نہیں جسکا دنیا کی پہلی 200 بہترین یونیورسٹیوں میں شمار کیا جاتا ہو۔ اگر امیر ملکوں کی یہ صورتحال ہے تو باقی مسلم ممالک کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔


کیا ہی اچھا ہوتا کہ دبئی کی یہ بلند ترین عمارت دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہوتی، یہ سارے وسائل صرف کر کے دنیا بھر سے ماہرین کو بہترین مراعات دے کر یہاں بلایا جاتا اور ایک بار پھر علم و تحقیق کے میدان میں مسلم دنیا اپنا مقام بنانا شروع کرتی۔ دبئی اور ابوظہبی اور دیگر ممالک کے اس طرح کے شہر سب سے زیادہ پانچ ستارہ ہوٹلوں کے شہروں کے بجائے سب سے اچھی جامعات کے شہروں کے طور پر جانے جاتے۔ یہ سب ہو سکتا ہے لیکن مسئلہ صرف ترجیحات کے تعین کا ہے۔
Back to top Go down
View user profile
Admin
Admin
Admin


Posts : 61
Join date : 2008-09-19
Age : 35
Location : Karachi Pakistan

PostSubject: تحریر: راجہ اکرام الحق   Wed Sep 15, 2010 1:34 pm

App nay bohat acha likha jinab bohat kushi howi app ki tahareer pahar kar


thanks

Back to top Go down
View user profile http://urdutaleem.net.tc
راجہ اکرام



Posts : 3
Join date : 2010-09-14

PostSubject: Re: مسلم دنیا میں تعلیم کی صورتحال اور ہماری ترجیحات   Wed Sep 15, 2010 2:02 pm

پسندیدگی کا شکریہ محترم ایڈمن صاحب

Back to top Go down
View user profile
Admin
Admin
Admin


Posts : 61
Join date : 2008-09-19
Age : 35
Location : Karachi Pakistan

PostSubject: مسلم دنیا میں تعلیم کی صورتحال اور ہماری ترجیحات   Wed Sep 15, 2010 6:54 pm

Hum Umeed kartay han bahi kay app kuch na kuch acha likhtay rahanay gay inshallah humaray ess forum per
Back to top Go down
View user profile http://urdutaleem.net.tc
sahil_jaan



Posts : 50
Join date : 2015-01-22
Age : 25
Location : RawalPindi

PostSubject: Re: مسلم دنیا میں تعلیم کی صورتحال اور ہماری ترجیحات   Wed Jan 28, 2015 8:25 am

بہت ا چھا لکھا ہے بہت معلومات حاصل ہوئی ہین
Back to top Go down
View user profile
Sponsored content




PostSubject: Re: مسلم دنیا میں تعلیم کی صورتحال اور ہماری ترجیحات   Today at 12:45 pm

Back to top Go down
 
مسلم دنیا میں تعلیم کی صورتحال اور ہماری ترجیحات
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
 :: Articles-
Jump to: