HomeHome  GalleryGallery  FAQFAQ  SearchSearch  MemberlistMemberlist  UsergroupsUsergroups  RegisterRegister  Log in  

Share | 
 

 مسلم گلیوں اور سڑکوں پر خود کش کارروائیاں

View previous topic View next topic Go down 
AuthorMessage
Admin
Admin
Admin


Posts : 61
Join date : 2008-09-19
Age : 35
Location : Karachi Pakistan

PostSubject: مسلم گلیوں اور سڑکوں پر خود کش کارروائیاں   Mon Jul 05, 2010 5:05 pm

کسی نہایت اہم واقعے کے اصل کردار سامنے نہ ہوں تو انکی بابت رائے قائم کرنیکا ایک طریقہ یہ ہوتا ہے کہ دیکھا جائے اس سے فائدہ اٹھانے والے فریق کون کونسے ہیں اور اس سے نقصان اٹھانے والے کون کونسے؟


افغانستان کی اسلامی امارت پر امریکہ کے جارحانہ حملوں اور اس کے مقابلے پر طالبان کے ڈٹ جانے نے طالبان اور القاعدہ کو پورے عالم اسلام میں وہ پزیرائی اور عزت دلوا دی تھی کہ شاید عالم اسلام کے کسی ایک آدھ اسلامی گروپ کو ہی حالیہ تاریخ میں کبھی ایسا اعزاز ملا ہو۔ امریکہ ایسے دشمن کا کسی اسلامی قوت کے مقابلے پر آنا اور اس کو ملیامیٹ کر دینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہونا اس اسلامی قوت کے حق میں مسلمانوں کی تائید اور حمایت کو جوش میں لے آنے کا ایک یقینی سبب ہو سکتا ہے، خاص طور پرا س وقت جب پورا عالم اسلام امریکہ کے خلاف کھول رہا ہے....


عالم اسلام میں کسی مخلص قیادت کا سامنے آنا صیہونی صلیبی قوتوں کو ملکوں کے ملک کھو دینے سے بھی بڑھ کر کھلتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں عالم اسلام کے اندر منتشر حالت میں ایک قوت اچھی خاصی موجود ہے اور صرف ایک ’چینل‘ کی ضرورت مند ہے لہٰذا یہ چیز اس امت کو کسی صورت میں میسر نہ آنے دو، کسی جزوی معنیٰ میں بھی ’قیادت‘ اس امت کے ہاتھ ہرگز نہ آنے پائے ....!


چند عشرے پہلے عرب میں الاخوان المسلمون اور برصغیر میں جماعت اسلامی ایک ابھرتی ہوئی قوت کے طور پر سامنے آنے لگی تھی تو بھی مغربی قوتوں کی پریشانی دیدنی تھی۔ ان دو تنظیموں کا کیونکہ میدان اور تھا لہذا ان کے ساتھ نمٹنے کے ’اوزار‘ بھی اور تھے۔ بہر حال ان دونوں تنظیموں کو یہاں ایک دھارے کا سرا بننے سے روک دینے کیلئے ہزاروں انتظامات عمل میں لائے گئے، جن کا پورا ادراک نہ ہونے کے باعث، بد قسمتی سے وہ بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے اور معاملہ کئی عشرے پیچھے چلا گیا۔


کیا القاعدہ اور طالبان کے خلاف بھی ایسی ہی کوئی تدبیر چل لی گئی ہے کہ مراکش تا انڈونیشیا ان کی تیزی کے ساتھ بڑھتی ہوئی ’سٹریٹ پاور‘ یک دم ایک بڑی ٹھوکر کھائے اور پھر اس سے سنبھلنے کا موقعہ بھی نہ پائے؟ خصوصاً جبکہ القاعدہ اور طالبان کی قیادتیں، بوجوہ، اپنے افراد سے رابطہ و اتصال میں وہ آسانی نہیں پاتیں جو دیگر بہت سی تنظیموں کو میسر ہے، اور جبکہ دشمن کا پورا زور جہاں القاعدہ اور طالبان کو ختم کر دینے پر لگا ہوا ہے وہاں ان کی پٹڑی سرکانے پر بھی اس کی بے حد زیادہ محنت ہورہی ہے۔


یہ ایک واقعہ ہے کہ کئی ایک ملکوں میں اخوان کی قیادتوں کے شہادتیں پا جانے یا پس زنداں چلے جانے کی صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اخوان کی صفوں میں نقب تک لگے تھے۔ یعنی ان کی پالیسیوں میں کچھ ایسے عناصر کی چلنے لگی تھی جن کی بابت کچھ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ کس کا ایجنڈا ہے۔ کئی موقعوں پر ایسے عناصر کی نشاندہی بھی ہوئی اور یہ ایک معروف واقعہ ہے کہ اخوان کو ایسے کئی ایک ہتھکنڈوں سے خراب کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ اخوان کے سمجھدار عنصر کو اس طریقے سے ’پیچھے‘ بھی کر دیا گیا تھا۔ ویسے بھی جب ایک بار جذباتی رو پورے زور سے چل جائے تو معاملے کو زیادہ گہرائی کے ساتھ لینے والا عنصر خود بخود پیچھے چلا جاتا ہے۔


شام میں، خصوصاً حمیٰ میں، اخوان کو ایک بدترین قتل عام سے گزارنے کیلئے بڑے عرصے تک ایک اسٹیج تیار کیا جاتا رہا تھا۔ آخر ایک دن آیا کہ شہر پر بلڈوزر چڑھا دیے گئے اور نصیری بعثی طاغوت کے ہاتھوں شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔


جس واقعے کے نتیجے میں مصر کے اندر ’سید قطب کے گروپ‘ کو تلوار کی دھار پر رکھ لینے کا بہانہ حاصل کیا گیا تھااس کی بابت بھی بعد ازاں یہ بات پایہء ثبوت کو پہنچی کہ ابتداءاً وہ ہائی کمان کا فیصلہ نہ تھا۔ گروپ کو ایک ایسی صورتحال میں لے آیا گیا تھا کہ پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ ہی نہ چھوڑا گیا تھا۔ اس کے نتیجہ میں صرف نوجوانوں کے اس گروپ پر ہی نہیں سید قطب پر بھی ہاتھ صاف کرنے کا موقعہ پا لیا گیا، جن کو ایسے کسی ’مسلح عمل‘ کی سرے سے خبر نہ تھی اور یوں سید قطب ایسا ایک قیمتی ہیرا اس امت سے چھین لیا گیا۔


سعودی عرب میں لوگوں نے تو یک دم ایک صبح اٹھ کر ’حرم پر قبضہ‘ ہی کی خبر سنی تھی اور وہ بھی حج کے موقعہ پر، مگر کچھ صالح نوجوانوں کو جال میں پھانسا کیونکر گیا اور کمال کامیابی کے ساتھ اسلحہ کے ڈھیر حرم میں پہنچا کیسے دیے گئے، اس راز سے اصل پردہ تو اسلامی تحریکوں کے شکاری ہی اٹھا سکتے ہیں البتہ اس کا کچھ نہ کچھ اندازہ اسلامی تحریکوں سے وابستہ ایک بڑے طبقے کو ہے۔ یہ بھی ایک اسٹیج تھا جو ظالموں کی جانب سے بڑے عرصے تک تیار کیا جاتا رہا تھا اور بالآخر اس کے نتیجے میں صالح نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کا صفایا کر کے رکھ دیا گیا۔


غرض ایسی ہزاروں مثالیں ہیں جو ہر ہر ملک میں کسی نوخیز اسلامی قوت کی اپنی ہی تیزی کو اس کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر برتے جانے کے معاملے میں سامنے آچکی ہیں۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کی تحریک طالبان سے بھی پہلے منظر عام پر آئی تھی اور اپنی اٹھان میں ایک خاص زور رکھتی تھی۔ ’سمت‘ بھانپنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ ایسے کسی عمل کو اپنی سمت میں اور اپنی رفتار کے ساتھ بڑھتا رہنے کے لئے چھوڑ دینا کیا معنیٰ رکھتا ہے، یہ بات ان فرعونوں سے پوچھ کر دیکھیں جن کو اہل ایمان کی نرینہ اولاد زہر لگتی ہے۔


بہرحال یہاں مقصد کسی بڑے سانحے کیلئے راہ ہموار کرنا ہے، یا مجاہدین کی بندوقوں کا رخ امریکہ سے کسی ’اور‘ طرف کو پھیر دینے کی کوشش، یا مسلم ملکوں کو مزید چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دینے کی کوئی اسکیم، یا ایک ایٹمی پاکستان کو منظر نامے سے روپوش کرا کے کرزائی کو بھارت اور ایران ایسے ’اچھے‘ ہمسائے فراہم کرنے کی دیرینہ خواہش.. اور یا پھر یہ سب کچھ....جو بھی ہو مگر جو بات سامنے کی ہے وہ یہ کہ ’طالبان‘ جس طریقے سے یہاں ہر پاکستانی کے دل کی آواز بن جانے لگے تھے، دیندار تو دیندار عام طبقہ بھی اس قوت اور توانائی کا اندازہ کرنے لگا تھا جو یہاں پر امن و چین اور عدل وانصاف فراہم کرنے کیلئے اسلامی قوتیں فراہم کرسکتی ہیں اور جس سے یہاں کی دین نا آشنا قیادتیں آخری حد تک محروم ہیں، جس طریقے سے ’طالبان‘ ایک خاص مجموعہء افراد نہیں بلکہ ’متبادل‘ کی ایک ’نئی‘ اور نہایت کامیاب قسم کے طور پر دلوں میں گھر کرنے لگے تھے.... یہاں کے معاشروں میں ’طالبان‘ کی اس جہت کو مسخ کر کے ان کا ایک بے حد ’ڈراؤنا اور لاینحل‘ امیج بنا ڈالنے میں نہایت تیزی کے ساتھ کامیابی حاصل کر لی جانے لگی ہے۔


طالبان کا یہ نقصان بڑی حد تک کر دیا گیا ہے۔ طالبان کیلئے ’جنون‘ کی حد تک پزیرائی جو پاکستان میں پائی جانے لگی تھی اور بہت سی قوتوں کے کان کھڑے کر گئی تھی، واقعات کا یہ سلسلہ کھڑا کر کے طالبان کی اس پزیرائی پر ایک ٹھیک ٹھاک ہاتھ ڈال دیا گیا ہے۔ پھر سے ہماری راہ میں ایک ’بندگلی‘ لائی جانے لگی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ’معرکہ‘ جیتنے کی بجائے ’جنگ‘ جیتنا اس وقت ہماری اصل ترجیح ہو۔


پس کسی واقعے کے پیچھے پائے جانے والے کرداروں کا اندازہ کرنے کے طریقوں میں سے یہ بھی اگر ایک طریقہ ہے کہ دیکھا جائے اس واقعے سے کونسا فریق فائدہ اٹھائے گا اور کونسا فریق نقصان.... تو اس عمل میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا فریق پھر ’طالبان‘ ہی ہیں اور اسکے بعد ’پاکستان‘۔ سب سے زیادہ فائدہ البتہ جو فریق اس صورتحال سے اٹھا رہا ہے یا اٹھائے گا اسکا نام ہے سب سے پہلے ’امریکہ‘، پھر ’بھارت‘ اور پھر ’ایران‘۔ ابھی یہ سلسلہ سرحد سے بڑھتا بڑھتا اگر ’بلوچستان‘ تک چلا جاتا ہے تو اس عمل سے نقصان اٹھانے والے اور فائدہ اٹھانے والے ’فریق‘ اور بھی واضح ہو جائیں گے۔


پس یہ دھماکے جو اسوقت پاکستان میں جگہ جگہ ہور ہے ہیں انکے پیچھے ’طالبان‘ اور ’القاعدہ‘ کا ہاتھ تلاش کرنیکی بجائے کیوں نہ ’وہ‘ ہاتھ تلاش کئے جائیں جو اس سبوتاژ عمل سے درحقیقت مضبوط ہو رہے ہیں.... اور جوکہ ’طالبان‘ و ’القاعدہ‘ کو بدنام کر رہے ہیں اور پاکستان کو برباد؟ اور جس سے کہ موخر الذکر ہر دو فریق نقصان ہی اٹھا رہے ہیں، اور اس سے فائدہ لینے والا جو فریق ہے وہ ان ہر دو کے کوئی علاوہ ہی ہے؟!


پاکستانی قیادتیں بجائے اس کے کہ قبائلیوں پر اپنی ’بہادری‘ کی دھاک بٹھاتے بٹھاتے ان خطوں کو ’بنگلہ دیش‘ کی راہ پر ڈال دیں، (’لبریشن آرمی‘ ایسی دین گریز قوتوں کو ’مکتی باہنی‘ بننے میں ’مدد‘ دیں) کیوں نہ اس مسئلے کے ’عالمی کھلاڑیوں‘ کی جانب متوجہ ہوں؟! پاکستانی قیادتیں بھی کیا ’معرکہ‘ جیت کر ’جنگ‘ ہارنے کی راہ پر گامزن تو نہیں؟


بہرحال پاکستانی قیاتوں کا مسئلہ پاکستانی قیادتوں کے ساتھ، ہمارے مسلمان بھائی یاد رکھیں اسلامی قوتوں پر ہاتھ اسوقت تک نہیں ڈالا جاتا جب تک انکو امت سے کاٹ کر نہ رکھ دیا جائے اور ان کا امیج پہلے آخری حد تک خراب نہ کر لیا جائے۔ ہاں یہ ہوجائے تو پھر اُن کے پاس اِن کیلئے بہت کچھ ہے۔ اس طویل معرکہ میں مجاہدین کی اصل قوت امت کو اپنی پشت پر رکھنے میں ہے۔


افغانستان کی ایک امارت کھو کر تو طالبان نے پوری امت کی نصرت واعانت کا استحقاق پا لیا تھا!زمین کا کنٹرول وقتی طور پر ہاتھ سے گیا تھا مگر دلوں پر حکومت کرنے لگے تھے، جس میں ’ڈیورنڈ لائن‘ تو کیا کوئی بھی ’لائن‘ ان کی راہ میں نہ ٹھہرتی! یہ اس بات کی دلیل تھی کہ ’زمینی کارروائیوں‘ میں پیش قدمی یا پسپائی طالبان کی قوت جانچنے کا اصل معیار نہ تھا بلکہ ان ’امکانات‘ کے اندر تھا جس کے طالبان درحقیقت مالک بنتے جا رہے تھے۔ ’قبائلی علاقوں‘ میں بھی یہی ترجیح برقرار رہنی چاہیے تھی۔ افغانستان میں طالبان نے ایک پسپائی اختیار کی تو وہ انکے حق میں ایک پیش قدمی بن گئی تھی۔ کیا ایسا تو نہیں کہ طالبان کیلئے اصل امتحان اب آیا ہو؟ ان کے بعض طبقے ایک ایسی ’پیش قدمی‘ کی راہ پر تو نہیں چل پڑنے لگے جو اپنی نہاد میں ایک ’پسپائی‘ رکھتی ہے؟ ایک دھیمی آنچ کو برقرار کھنا کہیں بہتر حکمت عملی ہوتی۔ صورتحال تو ویسے ہی عنقریب بدل جانے والی ہے۔ امریکہ کے دانے تو قریب قریب بک چکے! بس ذرا ایک چوٹ اور!
اللّٰہُمَّ احفَظہُم ´ بِمَا تَحفَظُ بِہ عِبَادَکَ الصَّالِحِینَ، وَاعصِمہُم ´ عَمَّا لا یُحمَدُعُقبَاہ۔

http://www.eeqaz.com/main/articles/08/20081005.htm

Back to top Go down
View user profile http://urdutaleem.net.tc
sahil_jaan



Posts : 50
Join date : 2015-01-22
Age : 25
Location : RawalPindi

PostSubject: Re: مسلم گلیوں اور سڑکوں پر خود کش کارروائیاں   Wed Jan 28, 2015 8:11 am

بہت اچھی شئرینگ کی ہے اور واقعی ایسا ہے بھی طالبان نے امریکہ کو بہت نقصان دیا ہے
Back to top Go down
View user profile
 
مسلم گلیوں اور سڑکوں پر خود کش کارروائیاں
View previous topic View next topic Back to top 
Page 1 of 1

Permissions in this forum:You cannot reply to topics in this forum
 :: Islamic Education :: Islam-
Jump to: