ہندوستان میں اپنی نوعیت کی پہلی شادی ہوئي ہے جس میں نکاح خواں کے فرائض ایک مرد کے بجائے ایک خاتون نے انجام دیئے ہیں۔ روایت شکنی کا یہ کارنامہ ریاست اتر پردیش کے شہر لکھنؤ میں انجام دیا گيا ہے۔ منگل کو منصوبہ بندی کمیشن کی رکن ڈاکٹر سیدہ حامد نے نکاح خواں کے فرائض انجام دیئے اور دو سماجی کارکنوں کو رشتہ ازواج میں منسلک کیا۔ دلہن نے ڈاکٹر سیدہ حامد کو نکاح پڑھانے کے خصوصی طور پر دلی سے لکھنؤ آنے کی دعوت دی تھی۔ سیدہ حامد نے ایک مرد اور متعدد خواتین کی گواہی میں خطبہ پڑا اور نکاح کی رسم پوری کی۔ دلہن لکھنؤ کی سماجی کارکن نائش حسن اور دولہا عمران علی بھی سماجی کارکن ہیں۔ دونوں میڈیا کی موجودگي میں قاضی کے دونوں جانب بیٹھے تھے اور دونوں نے سب کے سامنے نکاح قبول کیا۔
اس نکاح میں مہر کی رقم اکاون ہزار روپےطے کی گئی اور نکاح نامے میں بعض نئی شرائط ہیں جنہیں ایک خاتون تنظیم بھارتی مسلم مہیلا اندولن نے تیار کیا ہے۔ اس نکاح نامے کے تحت دولہے کو تین بار طلاق طلاق طلاق کہنے کے بعد شادی منسوخ کرنے کا اختیار نہیں ہے اور مرد اور عورت دونوں کو طلاق کا اختیار ہے۔ اس شادی میں دولہا بارات لے کر نہیں آیا تھا اور دولہے کا خیر مقدم ایک عام مہمانوں کی طرح کیا گيا۔ میڈیا سے بات چيت میں دلہن نائش نے کہا کہ مرد کا قاضی ہونا مردوں کے غلبے والےسماج کا حصہ ہے جبکہ اسلام میں برابری اور انصاف پر زور دیا گيا ’اگر عورت نکاح پڑھائے تو شادی میں غیر معمولی مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا’یہ تبدیلی کی لہر ہے اور اس کا آغاز میں خود کر رہی ہیں۔‘ اس نکاح کے وقت موجود مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ایک ممبر نسیم اقتدار علی نے صرف خواتین گواہوں پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شریعت کے مطابق ایک مرد بھی گواہ ہونا چاہیے۔ ان کے کہنے پر آخر میں ایک مرد کو بطور گواہ شامل کر لیا گيا۔ لکھنؤ کے فرنگی محل سے وابستہ مولانا خالد رشید اور بعض دیگر علماء نے اس نکاح کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ نکاح میں مرد ہی نکاح خواں کے فرائص انجام دے سکتا ہے۔ لیکن سینیئر وکیل ظفر یاب جیلانی کا کہنا تھا کہ اس ميں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے اور یہ غیر اسلامی بھی نہیں ہے۔ بقول ظفر یاب جیلانی ’مسلمانوں میں شادی ایک معاہدہ ہے اور اس میں گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مرد اور عورت ہونے سے فرق نہیں پڑتا ہےر ور نکاح کے وقت خطبہ پڑھنا بھی لازمی نہیں ہے اور اسے مرد یا عورت کوئی بھی پڑھ سکتا ہے۔